زیر حراست
قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )
معنی
١ - جو حوالات میں بند ہو، نظربند، گرفتار۔ "ایک قلعے میں زیرحراست رکھا گیا۔" ( ١٩٢٦ء، شرر، مضامین شرر، ١٣٦ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'زیر' کے آخر پر کسرۂ صفت لگا کر عربی اسم 'حراست' لگانے سے مرکب توصیفی 'زیر حراست' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٠٥ء کو "حورعین" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - جو حوالات میں بند ہو، نظربند، گرفتار۔ "ایک قلعے میں زیرحراست رکھا گیا۔" ( ١٩٢٦ء، شرر، مضامین شرر، ١٣٦ )